Sunday, January 12, 2020

سامنا

جب سامنا ہوا تو شرما کے رہ گۓ۔     

سکتے میں ھم وہ آۓ کہ پتھرا رہ گۓ

Sunday, January 5, 2020

ھم ترے شہر میں فرسودہ مکاں رکھتے ہیں 
زیر تخلیق مگر تازہ جہاں رکھتے ہیں

ھم سبک گام بھی ہیں، تیز نظر، بھی لیکن
فکر ہر لغزش ناقص نظران رکھتے ہیں

بوڑھی تعبیر کی بیمار فضا میں سے دوست
ھم ہیں وہ لوگ جو خوابوں کو جواں رکھتے ہیں

رشتہ سناٹے سے طوفان کا معلوم تو ہے؟
قائم آس شہر میں آپ امن و اماں رکھتے ہیں

عمر بھر گنتے رہے ھم ترے ماتھے کے شکن
اک یہی مسئلہ سود و زیاں رکھتے ہیں
پیر صاحب ہیں خفا ساقی کم سن سے فضول
  کچھ مرید ایسے ہیں جو پیر جواں رکھتے ہیں